مجھ سے پہلی سی محبت

میں نے سمجھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غم رہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا عالم میں رکھا کیا ہے

تو جو مل جائے تقدیر نگوں ہو جائے

یوں نہ تھا، فقط میں نے چاہا تھا یوں ہو جائے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریخ بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے

اب بھی دلکش ہے تیرا حسن، مگر کیا کیجئے

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
فیض احمد فیض

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s


%d bloggers like this: